کاروار3/جنوری(ایس او نیوز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر الیاس تومبے نے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے ذریعے نریندرا مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے مسلمانوں کو اس ملک سے باہر بھگانے کی سازش رچی ہے۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر یہاں سے جانے والے نہیں ہیں۔ اس دیش کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔اسے روکنے کی طاقت یہاں کے مسلمانوں کے اندر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لئے پرانے زمانے کے دستاویزات طلب کرکے بی جے پی مسلمانوں کو جیلوں میں بھرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر نے کہا کہ دیش بھر میں سول سوسائٹی کی طرف سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ اور پولیس بلاوجہ طاقت کا استعمال کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور فائرنگ کا سہارا لے رہی ہے۔ منگلورو میں احتجاج کی اجازت دینے کے بعد راتوں رات امتناعی احکامات لاگو کرنے سے عوام میں الجھن پیدا ہوئی اور لاعلمی میں لوگوں کے گروہ احتجاج کرنے لگے۔ پولیس نے بلاوجہ لاٹھی چارج شروع کیا تو جواب میں احتجاجیوں نے پتھراؤ بھی کیا۔ لیکن پولیس نے مسلمانوں کو جان سے مارڈالنے کی نیت سے ہی سڑک کنارے کھڑے2 لوگوں کے سینے میں گولیاں داغ دیں۔
منگلوروکے علاوہ اتر پردیش میں بھی پولیس کی فائرنگ میں 23سے زیادہ جانیں گئی ہیں۔یو پی کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے احتجاجیوں سے بدلہ لینے کی بات کہی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ ہمارے جمہوری ملک میں جہاں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، وہاں پر حکمرانوں کی طرف سے اس طرح کی باتیں کس طرف اشارہ کر رہی ہیں؟ دراصل ملک کے دستور کو پاؤں تلے روندنے والوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کچلنے کا کام خود حکومت کی طرف سے کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا ملک میں اس سے پہلے بھی کئی مقامات پر امتناعی احکامات کے باوجود بھی ریالیاں اور احتجاجی مظاہرے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ لیکن پولیس کی طرف سے اس طرح طاقت کا استعمال، لاٹھی چارج اور گولی باری پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی برسراقتدار ہے وہا ں پر احتجاج کے دوران تشدد واقع ہوا ہے، جبکہ دوسری جگہ اس طرح کی واقعات نہیں ہوئے ہیں۔
منگلورو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے دو افراد کو فی کس پانچ لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کرنے کے بعد بنگلورو پہنچ کر اپنی بات سے پھر جانے اور معاوضہ دینے سے انکار کرنے پر وزیراعلیٰ کرناٹک ایڈی یورپا پر تنفقید کرتے ہوئے الیاس تومبے نے کہا کہ متاثرین کو وزیرا علیٰ کے معاوضے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔
منگلورو میں احتجاج کے دوران اللہ اکبر کے نعرے لگانے اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران اللہ اکبر کہنا کوئی فرقہ وارانہ بات نہیں ہے۔ البتہ وندے ماترم کہنا ضرور فرقہ وارانہ رنگ ہے۔ ہم وندے ماترم نہیں کہتے اس لئے اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے۔
اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر نے کانگریس پر بھی جم کر تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی اور کانگریس میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔کیونکہ کانگریس کی طرف سے مسلم طبقے کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافیاں کی گئی ہیں۔
پریس کانفرنس میں پاپولر فرنٹ کے لیڈر منصور چنداور کر، محمد توفیق بیاری، اشرف ماچا، عارف راجا اور دیگر لیڈران موجود تھے۔